حدیث نمبر: 6242
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ ، وَسِلَاحَكَ ، ثُمَّ ائْتِنِي " . قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ ، ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ : " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغَنِّمُكَ ، وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " يَا عَمْرُو ، نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَالَ : كَذَا فِي النُّسْخَةِ : " نَعِمَّا " بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ . قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ فِيهِ : وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نِعْمَ ، وَنِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ " . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیج کر ارشاد فرمایا : اپنا لباس پہن کر اور ہتھیار پہن کر پھر میرے پاس آ جاؤ راوی بیان کرتے ہیں : میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت وضو کر رہے تھے آپ نے بغور میرا جائزہ لیا اور پھر سر کو جھکا لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں ایک مہم پر بھیجنا چاہتا ہوں اللہ تعالی تمہیں سلامت رکھے گا اور تمہیں غنیمت عطا کرے گا اور میں تمہارے لئے مال کے حوالے سے نیک رغبت کا اظہار کرتا ہوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے مال کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا ہے میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے ساتھ کی خاطر اسلام قبول کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمرو نیک ( یعنی حلال ) مال کا نیک شخص کے پاس ہونا اچھی بات ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : نسخہ میں یہ لفظ ایسی طرح ” نعما “ ہے ، جس میں ن پر زبر ہے اور ع پر زیر ہے ابوعبیدہ کہتے ہیں : اس میں ن اور ع دونوں پر زیر پڑھی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تا ہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے ساتھ میں رغبت رکھتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے نیک ( یعنی حلال ) مال کا نیک آدمی کے پاس ہونا اچھی بات ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7336) اخرجه احمد المسند (202/4)»