مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ رُكُوبِ الْبَحْرِ . باب: سمندر ( کے سفر ) پر جانا
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَمَلَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ نَاسًا فِي الْبَحْرِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمْرَ ، فَقَالَ : حَمَلَ نَاسًا لَيْسَ بَيْنَهُمْ ، وَبَيْنَ الْبَحْرِ إِلَّا أَلْوَاحٌ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ هَلَكُوا - أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوُهَا - لَآخُذَنَّ دِيَتَهُمْ مِنْ ثَقِيفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کو سمندری سفر پر لے کر گئے اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا : وہ لوگوں کو لے کر ایسی حالت میں گیا کہ لوگوں اور سمندر کے درمیان صرف چند تختیاں حائل تھیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ کی قسم اگر وہ لوگ ہلاک ہو جاتے ( راوی کہتے ہیں : شاید یہ یا اس کی مانند کوئی کلمہ انہوں نے ارشاد فرمایا : ) تو میں نے ان لوگوں کی دیت ثقیف قبیلے کے لوگوں سے لینی تھی ( جو سیدنا عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے حسن نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔