مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْكَسْبِ ، وَالتِّجَارَةِ ، وَمَحَبَّتِهَا ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الرِّزْقِ . باب: کمائی کرنا ، تجارت کرنا اور اس سے محبت رکھنا اور رزق کے حصول کی ترغیب دینا
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَأَهْلَ بَيْتِي مَرْزُوقُونَ مِنْ هَذَا الصَّيْدِ ، وَلَنَا فِيهِ قَسْمٌ ، وَبَرَكَةٌ ، وَهُوَ مَشْغَلَةٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ ، وَبِنَا إِلَيْهِ حَاجَةٌ أَفَتُحِلُّهُ أَمْ تُحَرِّمُهُ ؟ فَقَالَ : " أُحِلِّهُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحَلَّهُ ، نِعْمَ الْعَمَلُ، وَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي لِلَّهِ رُسُلٌ كُلُّهُمْ يَصْطَادُ وَيَطْلُبُ الصَّيْدَ ، وَيَكْفِيكَ مِنَ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ إِذَا غِبْتَ عَنْهَا فِي طَلَبِ الرِّزْقِ حُبُّكَ لِلْجَمَاعَةِ ، وَأَهْلِهَا ، وَحُبُّكَ ذِكْرَ اللَّهِ ، وَأَهْلَهُ . وَابْتَغِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَعِيَالِكَ حَلَالًا ، فَإِنَّ ذَلِكَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَاعْلَمْ أَنَّ عَوْنَ اللَّهِ فِي صَالِحِ التِّجَارَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے سیدنا عرفطہ بن نہیک تمیمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اور میرے گھر والے شکار کے ذریعے رزق حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں اسی میں ہمارا حصہ ہے اور اس میں ہمارا رزق ہے لیکن یہ چیز اللہ کے ذکر سے اور باجماعت نماز ادا کرنے سے روک دیتی ہے اور ہمیں اس کی حاجت بھی ہے ، تو کیا آپ اسے حلال قرار دیتے ہیں یا اسے حرام قرار دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے حلال قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے یہ اچھا کام ہے اور اللہ تعالٰی عذر قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے مجھ سے پہلے کے اللہ تعالیٰ کے کچھ رسول تھے اور وہ سب شکار کیا کرتے تھے اور شکار کا پیچھا کیا کرتے تھے باجماعت نماز کے حوالے سے تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب تم رزق کے حصول کے سلسلے میں اس میں شریک نہ ہو سکو تو تمہیں جماعت اور اہل جماعت کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے تمہیں اللہ کا ذکر اور اللہ کا ذکر کرنے والے کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے تمہیں اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق تلاش کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے متراف ہے اور تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالٰی کی مدد نیک تجارت میں ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔