حدیث نمبر: 6232
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَقَدْ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى لَمْ يَمْنَعْ أَبَا بَكْرٍ الضَّنَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شُحُّهُ عَلَى نَصِيبِهِ مِنَ الشُّخُوصِ لِلتِّجَارَةِ ، وَذَلِكَ كَانَ إِعْجَابُهُمْ كَسْبَ التِّجَارَةِ وَحُبَّهُمْ لِلتِّجَارَةِ ، وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ مِنَ الشُّخُوصِ فِي تِجَارَتِهِ بِحُبِّهِ صُحْبَتَهُ ، وَضَنِّهِ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَقَدْ كَانَ بِصُحْبَتِهِ مُعْجَبًا لِاسْتِحْسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلتِّجَارَةِ وَإِعْجَابِهِ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تجارت کے سلسلے میں بصری تشریف لے گئے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی شدید خواہش بھی تجارت کے لئے ان کے جانے میں رکاوٹ نہیں بنی اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو تجارت کے ذریعے کمائی کرنا پسند تھا اور وہ لوگ تجارت سے محبت کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تجارت کے سلسلے میں جانے سے نہیں منع کیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ کو پسند کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھنا چاہتے تھے ، اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کو مستحسن سمجھتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (300/23)»