مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَتَى طَعَامًا مِنْ غَيْرِ دَعْوَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو دعوت کے بغیر کھانے میں آ جائے
حدیث نمبر: 6175
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا : كُنَّا نُسَمِّي الْإِمَّعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : الَّذِي يُدْعَى إِلَى طَعَامٍ فَيَتْبَعُهُ الرَّجُلُ ، وَهُوَ الْيَوْمَ الَّذِي يُحْقِبُ [ النَّاسَ ] دِينَهُ ، وَكُنَّا نُسَمِّي الْعِضَةَ السَّمَرَ ، وَهُوَ الْيَوْمَ : قِيلَ وَقَالَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں ان سے منقول ہے اس میں یہ بات مذکور ہے ہم زمانہ جاہلیت میں امعہ اسے کہتے تھے کہ جسے کھانے کی دعوت دی گئی ہو اور اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی پیچھے چلا جائے اور آج یہ اس شخص کو کہا: جاتا ہے ، جو لوگوں کے لیے اپنے دین کو پس پشت ڈال دیتا ہے ، اور ہم ” جھوٹ “ کو ” سمر “ کہتے تھے اور آج اسے ” قیل وقال “ کہا: جاتا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں اور وہ دونوں ہی ضعیف ہیں ۔