مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ دُعِيَ ، فَرَأَى مَا يَكْرَهُ . باب: جس شخص کی دعوت کی جائے اور وہ ایسی چیز دیکھے جو ناپسندیدہ ہو
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - قَالَ : أَعْرَسْتُ فِي عَهْدِ أَبِي ، فَأَذَّنَ أَبِي النَّاسَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ فِيمَنْ أَذِنَّا ، وَقَدْ سُتِرَ بَيْتِي بِنِجَادٍ أَخْضَرَ ، فَأَقْبَلَ أَبُو أَيُّوبَ ، ثُمَّ دَخَلَ فَرَآنِي قَائِمًا فَاطَّلَعَ فَرَأَى الْبَيْتَ مُسْتَتِرًا بِنِجَادٍ أَخْضَرَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، تَسْتُرُونَ الْجُدُرَ ؟ ! قَالَ أَبِي وَاسْتَحْيَا : عَلَبْنَنَا النِّسَاءُ يَا أَبَا أَيُّوبَ . قَالَ : مَنْ خَشِيَ أَنْ يَغْلِبَهُ النِّسَاءُ فَلَمْ أَخْشَ أَنْ يَغْلِبَنَّكَ . ثُمَّ قَالَ : لَا أَطْعَمُ لَكُمْ طَعَامًا ، وَلَا أَدْخُلُ لَكُمْ بَيْتًا . ثُمَّ خَرَجَ رَحِمَهُ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں : اپنے والد کے زمانے میں ، میں نے شادی کی میرے والد نے کچھ لوگوں کو بلایا سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان افراد میں شامل تھے جنہیں ہم نے بلایا تھا میرے گھر میں سبز رنگ کے پردے لٹک رہے تھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے جب وہ اندر آئے تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں کھڑا ہوا ہوں ۔ انہوں نے جھانک کر دیکھا تو گھر میں سبز رنگ کے پردے لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے ابوعبداللہ کیا تم لوگ دیواروں پر پردے لٹکاتے ہو میرے والد شرما گئے ۔ انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ خواتین ہم پر غالب آ گئیں ہیں تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص اس بات کا اندیشہ رکھتا ہو کہ خواتین اس پر غالب آ جائیں گی وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ خواتین تم پر بھی غالب آ جائیں گی پھر انہوں نے فرمایا : میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا اور میں تمہارے گھر میں داخل نہیں ہوؤں گا ، پھر وہ تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔