حدیث نمبر: 6156
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : الْوَلِيمَةُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ فَمَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَالْخَرَسُ وَالْإِعْذَارُ وَالتَّوْكِيرُ أَنْتَ فِيهِ بِالْخِيَارِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي مَا الْخَرَسُ ، وَالْإِعْذَارُ ، وَالتَّوْكِيرُ ؟ قَالَ : الْخَرَسُ : الْوِلَادَةُ . وَالْإِعْذَارُ : الْخِتَانُ . وَالتَّوْكِيرُ : الرَّجُلُ يَبْنِي الدَّارَ وَيَنْزِلُ فِي الْقَوْمِ فَيَجْعَلُ الطَّعَامَ فَيَدْعُوهُمْ . فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا جَاءُوا ، وَإِنْ شَاءُوا قَعَدُوا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ولیمہ حق اور سنت ہے ، جس شخص کو اس کی دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ خرس اعزار اور توکیر کے بارے میں تمہیں اختیار ہے ( کہ تم چاہو ، تو چلے جاؤ ، چاہو ، تو نہ جاؤ ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ خرس ، اعزار اور توکیر کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے ( یعنی میرے استاد نے ) بتایا خرس سے مراد ( بچے کی ) پیدائش کی دعوت ہے اعزار سے مراد ختنے کے وقت کی دعوت ہے اور توکیر سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی کوئی گھر بناتا ہے ، تو اس میں لوگوں کو بلاتا ہے اور کھانا تیار کر کے ان کی دعوت کرتا ہے ، تو ان کے بارے میں لوگوں کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو چلے جائیں اور اگر چاہیں تو نہ جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان تیمی ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف