❮
❯
حدیث نمبر: 6131
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ حَتَّى أَخْبَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ .
وَحَدَثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَقَالَ : " مَا لَكِ ؟ لَعَنَكِ اللَّهُ ! لَوْ كُنْتِ تَارِكَةً أَحَدًا لَتَرَكْتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " .
قُلْتُ : قَتْلُ الْحَيَّاتِ فِي الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سانپوں کو مار دینے کا حکم دیا کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے ، جو گھروں میں ہوتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے بڑھے تو ایک بچھو نے آپ کو ڈنک مار لیا آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اگر تم نے کسی کو چھوڑنا ہوتا تو تم نبی کو چھوڑ دیتے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سانپوں کو مارنے کی روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه صحيح البخاري برقم: 3792، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 5253، وأخرجه مسند أحمد برقم: 15325، وأخرجه موطأ مالك برقم: 1826، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5639، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 171»