مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
حدیث نمبر: 6129
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ فَاكِهٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَخَرَجَ إِلَيَّ مُبْرِزًا بِيَدِهِ الرُّمْحَ فَقُلْتُ : يَا أَبَا خَارِجَةَ ، مَا بَالُ الرُّمْحِ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَطْلُبُ هَذِهِ الدَّابَّةَ الْخَبِيثَةَ الَّتِي يَكْتُبُ اللَّهُ بِقَتْلِهَا الْحَسَنَةَ ، وَيَمْحُو بِهَا السَّيِّئَةَ ، وَهِيَ الْوَزَغُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ تَفَرَّدَ عَنْهُ : أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
عقبہ بن فاکہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف گیا وہ میرے سامنے آئے تو ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا میں نے کہا: اے ابوخارجہ اس وقت آپ کے ہاتھ میں نیزے کا کیا کام ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس خبیث جانور کو تلاش کر رہا ہوں جس کو مارنے پر اللہ تعالیٰ نیکیاں نوٹ کرتا ہے اور اس کی وجہ سے گناہ مٹا دیتا ہے اور وہ چھپکلی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ ہے ابوجعفر خطمی اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔