مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
حدیث نمبر: 6123
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتِحَسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ ، فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فَمْنَ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سانپوں کو مار دو خاص طور پر دو دھاری والے اور دم کٹے کو مار دو ! کیونکہ وہ بینائی کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں جو شخص ان دونوں کو نہیں مارے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم میں یہ الفاظ نہیں ہیں : جو شخص ان دونوں کو نہیں مارے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔