حدیث نمبر: 6110
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ ؟ فَقَالَ : " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ " . فَإِذَا جَرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهَشَّ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَآهُ فَقَالَ : لَمْ تَأْتِنِي " . فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ِفي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الطَّبَرَانِيِّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پریشان لگ رہے تھے میں نے آپ سے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : جبرائیل تین دن سے میرے پاس نہیں آئے ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک کتے کا پلا آپ کے گھر میں موجود تھا ، آپ کے حکم کے تحت اسے مار دیا گیا سیدنا جبرائیل آپ کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف لپکے جب آپ نے انہیں دیکھا آپ نے دریافت کیا : تم میرے پاس کیوں نہیں آئے ۔ انہوں نے عرض کی : ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصاویر موجود ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ طبرانی کی نقل کردہ حدیث اس سے پہلے ضعیف سند کے ساتھ گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (203/5)»