مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بُجَيْرُ بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ الْمِزِّيُّ - عَقِبَ حَدِيثٍ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِهِ - : وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأَمَةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ، الْآيَةَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی ایسا کتا رکھے ، جو شکار کے لئے نہ ہو یا جانوروں ( کی حفاظت ) کے لئے نہ ہو ، تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بجیر بن ابوبجیر ہے مزی اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں : انہوں نے اسے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے : ( لوگوں نے کہا: ) کہ اس امت میں سے ، جس کے بارے میں آپ نے قتل کرنے کا حکم دیا ہے ان میں سے ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں ان کے لئے کیا چیز حلال قرار دی گئی ہے “ ۔