حدیث نمبر: 6103
وَعَنْ أُسَامَةَ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - قَالَ : دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي ، وَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ " . فَإِذَا كَلْبٌ قَالَ أُسَامَةُ : فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي فَصِحْتُ ! فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " . فَقُلْتُ : كَلْبٌ ! فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : " مَا لَكَ لَمْ تَأْتِنِي ؟ وَكُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي لَمْ تُخْلِفْنِي ؟ " . فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا تَصَاوِيرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ يَأْتِي . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پریشان تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جبرائیل نے میرے پاس آنے کا مجھ سے وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے وہاں ایک کتا موجود تھا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور آواز نکالی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہو ہے ؟ میں نے عرض کی : کتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مار دیا گیا پھر سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس نہیں آئے جبکہ تم نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اور تم نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، تو انہوں نے عرض کی : ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصاویر موجود ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے ، جسے امام أحمد نے عمدہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے وہ روایت آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید