مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتُلُوا الْكِلَابَ " . فَقَالَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تَنْفَعُنَا إِنَّهَا تَكُونُ فِي غَنَمِنَا ، وَزَرْعِنَا ؟ قَالَ : " فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْبَهِيمَ " . ¤ وَالْبَهِيمُ الَّذِي تَقُولُ النَّاسُ : إِنَّهُ الْجِنُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا سَعِيدَ بْنَ بَحْرٍ شَيْخَ الْبَزَّارِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : تم لوگ کتوں کو مار دو اہل مدینہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمیں نفع دیتے ہیں یہ ہماری بھیڑ بکریوں میں اور ہمارے کھیتوں میں ( حفاظت کا کام کرتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے اس کو مار دو جو بہیم ( جس کا رنگ مکمل کالا ہو ) ۔ بہیم کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں : وہ جن ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بحر کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔