مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ ، وَلِي كَلْبٌ ، فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ صَحِيحٌ خَلَا الرُّخْصَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ۔ انہوں نے عرض کی : میرا گھر دور ہے میرا ایک کتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چند دن تک رخصت دی پھر آپ نے ان کے کتے کو بھی مار دینے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں رخصت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔