مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الْحَيَوَانَاتِ إِلَّا الْمُؤْذِيَ . باب: جانوروں کو مارنے کی ممانعت ہونا ، البتہ اذیت دینے والے جانوروں کا حکم مختلف ہے
حدیث نمبر: 6092
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ كُلِّ ذِي رُوحٍ إِلَّا أَنْ يُؤْذِيَ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ بِمَعْنَاهُ خَلَا قَوْلَهُ : " إِلَّا أَنْ يُؤْذِيَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ذی روح کو قتل کرنے سے منع کیا ہے البتہ اگر وہ اذیت دیتا ہو ، تو حکم مختلف ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اسی مفہوم کی ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” البتہ اس کا حکم مختلف ہے ، جو اذیت دیتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جو یبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔