مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَةَ " . باب: چیونٹی ، مینڈک ، شہد کی مکھی اور دیگر ( جانوروں ) وغیرہ کا بیان جنہں مارنے سے منع کیا گیا ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَةَ " . ¤ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِهِنَّ ، وَعَنْ إِحْرَاقِ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، رِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي زُهَيْرٍ فِي النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ الْجَرَادِ فِي بَابِ الْجَرَادِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تمام مکھیاں جہنم میں جائیں گی صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے سے اور دشمن کی سرزمین پر کسی چیز کو جلانے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے تمام رجال ثقہ ہیں امام بزار نے یہ روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوزہیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے ، جو ٹڈی دل کو مارنے کے بارے میں ہے اور یہ ٹڈی دل سے متعلق باب میں گزری ہے ۔