مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كُلِّ ذِي نَابٍ ، أَوْ ظُفُرٍ ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ . باب: ہر نوکیلے دانتوں والے اور پنجوں والے جانور کا بیان اور اس سے جو منع کیا گیا ہے ، اس کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُغَفَّلٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ ؟ قَالَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " . قُلْتُ : مَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، فَإِنِّي آكُلُ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ ؟ قَالَ : " لَا آكُلُهَا ، وَلَا أُحَرِّمُهَا " . قُلْتُ : مَا لَمْ تُحَرِّمْهُ ، فَإِنِّي آكُلُهُ . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ ؟ قَالَ : " وَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . ¤ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ ؟ قَالَ : " وَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن مغفل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اس سے منع بھی نہیں کرتا ہوں ( راوی کہتے ہیں ) تو میں یہ کہتا ہوں کہ جس چیز سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا میں اسے کھا لیتا ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : خرگوش کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس کو کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا ہوں میں نے عرض کی : جسے آپ حرام قرار نہیں دیتے ہیں تو میں اسے کھا لیتا ہوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لومڑی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی اسے کھاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : بھیڑیئے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی اسے کھاتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن عدی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔