مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كُلِّ ذِي نَابٍ ، أَوْ ظُفُرٍ ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ . باب: ہر نوکیلے دانتوں والے اور پنجوں والے جانور کا بیان اور اس سے جو منع کیا گیا ہے ، اس کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ - أَوْ قَالَ : - ذِي ظُفُرٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَكُلُّ سَبُعٍ ذِي ظُفُرٍ ، أَوْ نَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - تَقَدَّمَ فِي الْجَنَائِزِ - ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے آپ نے منادی کو یہ حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا : جنت کسی نافرمان کے لئے حلال نہیں ہے ۔ خبردار ! پالتو گدھے حرام ہیں اور ہر نوکیلے دانتوں والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نوکیلے پنجوں والا جانور حرام ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہر وہ درندہ جو ناخنوں والا ہو یا دانتوں والا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو جنائز سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔