حدیث نمبر: 605
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَنَاصَحُوا فِي الْعِلْمِ ; فَإِنَّ خِيَانَةَ أَحَدِكُمْ فِي عِلْمِهِ أَشَدُّ مِنْ خِيَانَتِهِ فِي مَالِهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيِّنُ الْحَدِيثِ ، مُدَلِّسٌ ، قِيلَ : هُوَ صَدُوقٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَانَ لَا يَكْذِبُ . وَقَالَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَكَانَ ثِقَةً . وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ لِتَدْلِيسِهِ وَالْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” علم کے بارے میں ایک دوسرے کی خیرخواہی کرو ، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اپنے علم کے بارے میں خیانت کرنا اس سے زیادہ سخت ہے کہ اُس نے اپنے مال میں خیانت کی ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم لوگوں سے حساب لے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے ، امام ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ حدیث میں کمزور ہے اور تدلیس کرنے والا ہے ، اُن سے دریافت کیا گیا : کیا یہ صدوق ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ جھوٹ نہیں بولتا ہے ابوہاشم رفاعی بیان کرتے ہیں : ابواسامہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی : وہ کہتے ہیں : ابوسعد بقال نے ہمیں یہ حدیث بیان کی جو ایک ثقہ راوی ہے ، اس راوی کی تدلیس کی وجہ سے شعبہ نے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11701»