حدیث نمبر: 5986
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَثْمَةَ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ذَبَحَ ذَبِيحَتَهُ بِسَحَرٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلَيْسَتْ تِلْكَ الْأُضْحِيَّةَ إِنَّمَا الْأُضْحِيَّةُ مَا ذُبِحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ اذْهَبْ فَضَحِّ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَخَذَ شَيْئًا أُضْحِيَةً وَمَا عِنْدِي إِلَّا جِذَاعٌ مِنَ الْمَعْزِ فَقَالَ : " اذْهَبْ فَضَحِّ بِهَا وَلَيْسَتْ فِيهَا رُخْصَةٌ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے سحری کے وقت اپنے ذبیحہ کو ذبح کر لیا جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو یہ قربانی شمار نہیں ہو گی قربانی وہ ہوتی ہے ، جو ( عید کی ) نماز کے بعد جانور ذبح کیا جائے تم جاؤ اور قربانی کرو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے قربانی کے لیے کچھ نہیں ملا ، اب میرے پاس صرف ایک بکری کا بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جاؤ اور اسے ہی قربان کر دو ! اور اس بارے میں تمہارے بعد کسی اور کے لئے رخصت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔ انہوں نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ذکر کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5986
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منکر