مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْبَغِي مِنَ اللُّبْسِ ، وَغَيْرِهِ فِي الْعِيدِ . باب: عید کے موقع پر لباس وغیرہ میں سے کیا ہونا چاہیے ؟
حدیث نمبر: 5963
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ - ، وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ أُمَّهُ أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَدَعَا لَهُ ، وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ خَلَا ذِكْرَ الْأُضْحِيَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے وہ بیان کرتے ہیں : ان کی والدہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں دعا دی ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ صحابی اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کیا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے تاہم اس میں قربانی کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔