مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَنْبَغِي مِنَ اللُّبْسِ ، وَغَيْرِهِ فِي الْعِيدِ . باب: عید کے موقع پر لباس وغیرہ میں سے کیا ہونا چاہیے ؟
عَنْ أَبِي الْأَشَدِّ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَمَرَنَا فَجُمِعَ لِكُلٍّ مِنَّا دِرْهَمٌ فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَةً بِسَبْعَةِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا " . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ ، وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ ، وَرَجُلٌ بِيَدٍ ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ ، وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ ، وَذَبَحَ السَّابِعُ ، وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو الْأَسَدِ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَلَا جَرَّحَهُ ، وَكَذَلِكَ أَبَوْهُ ، وَقِيلَ : إِنَّ جَدَّهُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي جَوَازِ ذَلِكَ فِي أُضْحِيَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ابواشد سلمی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود سات افراد میں سے ایک تھا راوی کہتے ہیں : آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور پھر سات درہم کے عوض میں قربانی کا جانور خرید لیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ مہنگا ملا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے زیادہ فضیلت والا قربانی کا جانور وہ ہوتا ہے ، جو سب سے زیادہ مہنگا اور سب سے زیادہ موٹا تازہ ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ایک شخص نے ایک پاؤں پکڑا ایک نے ایک پاؤں پکڑا ایک نے ایک ہاتھ پکڑا ایک نے ایک ہاتھ پکڑا ایک نے ایک سینگ پکڑا ایک نے دوسرا سینگ پکڑا اور ساتویں شخص نے اسے ذبح کیا ہم سب نے اس جانور پر تکبیر کہی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابواسد نامی راوی کی توثیق یا اس پر جرح کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اور اس کے باپ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ایک قول کے مطابق اس کے دادا سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے جواز کے بارے میں احادیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔