حدیث نمبر: 5956
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسًا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَدَخَلَ بِجَذَعٍ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٍ سَيِّدٍ ، وَجَذَعٍ مِنِ الضَّأْنِ مَهْزُولٍ خَسِيسٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٌ خَسِيسٌ ، وَهَذَا جَذَعٌ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٌ سَيِّدٌ ، وَهُوَ خَيْرُهُمَا أَفَأُضَحِّي بِهِ ؟ قَالَ : " ضَحِّ بِهِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ الْخَيْرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ حَنَشٍ الْعَبْدِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا وہ ایک موٹا تازہ بکرے کا بچہ لے کر آیا اور ایک دنبے کا بچہ لے کر آیا جو کمزور اور ہلکا پھلکا سا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ چھوٹا دنبہ ہے ، جو کمزور اور ہلکا پھلکا ہے اور یہ چھوٹا بکرا ہے ، جو موٹا تازہ ہے اور صحت مند ہے اور یہ ان دونوں میں زیادہ بہتر ہے ، تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی قربانی کر دو ! کیونکہ اللہ تعالی کے لئے بہتر چیز ہونی چاہیے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حنش عبدی کی روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5956
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6223)»