حدیث نمبر: 5945
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ " . ¤ قَالَ دَاوُدُ : السَّيِّدُ : الْجَلِيلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو ثُفَالٍ . قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چھوٹا دنبہ بڑے بکرے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے “ ۔ داؤد نامی راوی کہتے ہیں : سید سے مراد جلیل ( یعنی بڑا یا صحت مند ) ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوثفال ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوثفال ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔
حدیث نمبر: 5946
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ [ جِبْرِيلُ ] إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ نُسُكَنَا هَذَا ؟ فَقَالَ : يُبَاهِي بِهَا أَهْلُ السَّمَاءِ . وَاعْلَمْ - يَا مُحَمَّدُ - أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ وَاعْلَمْ - يَا مُحَمَّدُ - أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْبَقَرِ وَالْإِبِلِ . وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَفْضَلَ مِنْهُ لَفَدَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ الْحُنَيْنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہماری اس قربانی کے بارے میں تم کیا سمجھتے ہو ؟ انہوں نے بتایا آسمان والے اس کے حوالے سے فخر کا اظہار کرتے ہیں اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ یہ بات جان لیں کہ چھوٹا دنبہ بڑے بکرے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ یہ بات جان لیں چھوٹا دنبہ بڑی گائے اور بیل سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کو یہ پتہ ہوتا کہ اس سے زیادہ فضیلت والا بھی کوئی جانور ہے ، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو فدیے میں وہ دوسرا جانور دے دیا جاتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق حنینی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق حنینی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5947
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ ، وَالْأُذُنَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقُرَشِيُّ الْمُلَائِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ( ہم قربانی کے جانور ) کی آنکھ اور کان کا بغور جائزہ لے لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر قرشی ملائی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر قرشی ملائی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5948
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُضَحِّي بِمُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ ، وَلَا شَرْقَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ الْعَيْنِ وَالْأُذُنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہم مقابلہ اور مدابرہ کو ( یعنی وہ جانور جس کے کان کے پچھلے حصے میں سے معمولی سا کاٹ کر اس کو لٹکنے کے لیے چھوڑ دیں ) اور جس کا کان چیر دیا گیا ہو ، اور جس کے آنکھ یا کان میں گول سوراخ کیا گیا ہو ، اسے ذبح نہیں کرتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5949
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُدْنِ الْعَوْرَاءُ ، وَلَا الْعَجْفَاءُ ، وَلَا الْجَرْبَاءُ ، وَلَا الْمُصْطَلِمَةُ أَطْبَاؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤ وَالْأَطْبَاءُ - بِالْمُهْمَلَةِ - : الضُّرُوعُ . أَيِ الْمَقْطُوعَةُ ضُرُوعُهَا . ¤ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قربانی کے جانور میں کانے یا بالکل لاغر یا خارش زدہ یا جس کے تھن مکمل طور پر کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی جائز نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اطباء سے مراد تھن ہیں یعنی وہ جانور جس کے تھن کاٹ دیے گئے ہوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اطباء سے مراد تھن ہیں یعنی وہ جانور جس کے تھن کاٹ دیے گئے ہوں ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5950
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحَايَا فَلَمْ يُصِبْهُ ، وَلَا صَاحِبَهُ شَيْءٌ ، وَحَلَقَ رَأَسَهُ فِي ثَوْبِهِ وَأَعْطَى فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ مِنْ شَعْرِهِ ، فَإِنَّهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قربانی کی جگہ پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے وہ تھے اور ساتھ میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ان صاحب کو اور ان کے ساتھی کو کچھ نہیں ملا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں سر کے بال مونڈوا کر رکھوا دیے پھر وہ دیدیے اور آپ نے وہ کچھ لوگوں میں تقسیم کروا دیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن تراشے تو ان کے ساتھی کو بھی اپنے بال دیے راوی کہتے ہیں : وہ بال ہمارے پاس موجود تھے ان پر مہندی اور کتم ( نام کی بوٹی ) کا خضاب لگا ہوا تھا ۔
حدیث نمبر: 5951
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَهُوَ يُقَسِّمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ شَيْءٌ ، وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي ثَوْبٍ فَأَعْطَاهُ فَقُسِّمَ عَلَى رِجَالٍ . - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قربانی کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، وہ تھے اور قریش سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحابی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ان صاحب کو کچھ نہیں ملا اور ان کے ساتھی کو بھی کچھ نہیں ملا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مونڈوا کر بال کپڑے میں رکھوائے اور وہ انہیں دیے تو وہ کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5952
عَنْ أُمِّ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ضَحُّوا بِالْجَذَعِ مِنِ الضَّأْنِ ، فَإِنَّهُ جَائِزٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” دنبے ( یا بھیڑ ) کے بچے کو قربان کر لو ! کیونکہ یہ جائز ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5953
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ بِغَنَمٍ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُقَسِّمُهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، وَكَانُوا يَتَمَتَّعُونَ فَبَقِيَ مِنْهَا تَيْسٌ ، فَضَحَّى بِهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي تَمَتُّعِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بکریاں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجیں تاکہ وہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے درمیان تقسیم کر دیں لوگ وہ چیز حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے ایک بکرا بچ گیا تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے حج تمتع کے موقع پر خود اس کی قربانی کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5954
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ جَذَعًا مِنَ الْمَعْزِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُضَحِّيَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَلَكِنَّهُ حَسَنُ الْحَدِيثِ مَعَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بکری کا بچہ دیا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس کی قربانی کر لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 5955
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ : أُضَحِّي بِجَذَعٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُضَحِّيَ بِهَرِمٍ أَلْيَهُ أَحَقُّ بِالْفَتَى أَوِ الْكَرَمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بچے جانور کی قربانی کر لوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں بوڑھے جانور کی قربانی کروں ، کیونکہ ( بچہ جانور ، قربانی ) کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5956
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسًا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَدَخَلَ بِجَذَعٍ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٍ سَيِّدٍ ، وَجَذَعٍ مِنِ الضَّأْنِ مَهْزُولٍ خَسِيسٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٌ خَسِيسٌ ، وَهَذَا جَذَعٌ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٌ سَيِّدٌ ، وَهُوَ خَيْرُهُمَا أَفَأُضَحِّي بِهِ ؟ قَالَ : " ضَحِّ بِهِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ الْخَيْرَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ حَنَشٍ الْعَبْدِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا وہ ایک موٹا تازہ بکرے کا بچہ لے کر آیا اور ایک دنبے کا بچہ لے کر آیا جو کمزور اور ہلکا پھلکا سا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ چھوٹا دنبہ ہے ، جو کمزور اور ہلکا پھلکا ہے اور یہ چھوٹا بکرا ہے ، جو موٹا تازہ ہے اور صحت مند ہے اور یہ ان دونوں میں زیادہ بہتر ہے ، تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی قربانی کر دو ! کیونکہ اللہ تعالی کے لئے بہتر چیز ہونی چاہیے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حنش عبدی کی روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حنش عبدی کی روایت کے طور پر نقل کی ہے میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔