مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
باب باب: ذوالحج کے پہلے عشرے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ ، وَلَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّسْبِيحِ ، وَالتَّهْلِيلِ ، وَالتَّحْمِيدِ ، وَالتَّكْبِيرِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ التَّسْبِيحِ ، وَغَيْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی دن ( ذوالحج کے پہلے عشرے کے دنوں ) سے زیادہ عظمت والے نہیں ہیں اور ( ذوالج کے پہلے ) عشرے کے دنوں میں عمل کرنے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور کوئی عمل زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، تو تم لوگ ان دنوں میں بکثرت تسبیح پڑھو لا الہ الا اللہ پڑھو الحمد للہ پڑھو اللہ اکبر پڑھو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں صرف تسبیح وغیرہ کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔