مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ [ مِنْهَا ] . باب: اہل مدینہ کا وہاں سے نکل جانا
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ بَعْضِ بُيُوتِهِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَهُوَ يَقُولُ : " سَيَبْلُغُ إِلَيْنَا سَلْعًا ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَمُرُّ السَّفْرُ عَلَى بَعْضِ أَقْطَارِهَا فَيَقُولُ : قَدْ كَانَتْ هَذِهِ مَرَّةً عَامِرَةً مِنْ طُولِ الزَّمَانِ وَعُفُوِّ الْأَثَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس وقت اپنے کسی گھر سے نکل رہے تھے اور اپنی چادر کو کھینچ کر نکل رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب سلع ( پہاڑ ) ہم تک پہنچ جائے گا ( یعنی مدینہ منورہ پھیل جائے گا ) پھر مدینہ منورہ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس کے پاس سے کوئی مسافر گزرے گا اور یہ کہے گا کبھی یہ بستی آباد ہوا کرتی تھی یعنی طویل زمانہ گزرنے کے بعد اور نشانات مٹ جانے کے بعد ایسا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ متروک ہے ۔