مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ [ مِنْهَا ] . باب: اہل مدینہ کا وہاں سے نکل جانا
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَتَعَجَّلَ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوَرَّاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى تَرَوْهَا كَضَوْءِ النَّهَارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ دیکھا ( یعنی جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو کچھ افراد جلدی سے مدینہ منورہ چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات بسر کی ہم نے آپ کے ساتھ رات بسر کی جب صبح ہوئی تو ہم نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی وہ لوگ جلدی مدینہ منورہ کی طرف اور خواتین کی طرف چلے گئے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( عنقریب یہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے حالانکہ یہ اس وقت سب سے بہتر ہو گا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ایسا بھی ہو گا کہ جب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو وراق کے پہاڑ سے نکلے گی اور بصری میں موجود اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی تم اسے یوں دیکھو گے جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔