مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْبَرَةِ الْمَدِينَةِ . باب: مدینہ منورہ کے قبرستان کا بیان
حدیث نمبر: 5907
عَنْ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ رَأَيْتُ ] كَأَنَّ رَحْمَةً وَقَعَتْ بَيْنَ بَنِي سَالِمٍ وَبَنِي بَيَاضَةَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَنَنْقُلُ إِلَى مَوْضِعِهَا ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنِ اقْبُرُوا فِيهَا " ، فَقَبَرُوا فِيهَا مَوْتَاهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے دیکھا جیسے رحمت بنو سالم اور بنو بیاضہ کے درمیان واقع ہوئی ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس جگہ کی طرف منتقل ہو جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تم وہاں قبرستان بناؤ ( یا وہاں لوگوں کو دفن کرو ) تو لوگوں نے وہاں اپنے مردوں کو دفن کرنا شروع کر دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔