مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَقْبَرَةِ الْمَدِينَةِ . باب: مدینہ منورہ کے قبرستان کا بیان
وَعَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ : لَوْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ بِيَدِي فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ مَا فِيهَا بَيْتٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَقَالَ لِي : " يَا أُمَّ قَيْسٍ " يُبْعَثُ مِنْ هَذِهِ الْمَقْبَرَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " وَأَنْتَ " ، فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : کاش ! تم مجھے دیکھتے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور آپ مدینہ منورہ کی ایک گلی میں موجود تھے جس میں کوئی گھر نہیں تھا یہاں تک کہ آپ بقیع غرقد کے پاس آ گئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اے ام قیس اس قبرستان سے ستر ہزار ایسے افراد کو زندہ کیا جائے گا جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں بھی ( ان لوگوں میں ہوؤں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ہو گے ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میں بھی ہوؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ اس حوالے سے تم پر سبقت لے گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔