مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ . باب: مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس میں نماز ادا کرنا
وَعَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ آدَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِكَعْبٍ : أَيْنَ تَرَى أَنْ أُصَلِّيَ ؟ قَالَ : إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ فَكَانَتِ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ عُمَرُ : ضَاهَيْتَ الْيَهُودِيَّةَ [ لَا ] ، وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ [ فَبَسَطَ رِدَائَهُ ] فَكَنَسَ الْكُنَاسَةَ فِي رِدَائِهِ وَكَنَسَ النَّاسُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عبیدہ بن آدم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کعب احبار سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا : تمہارے خیال میں مجھے کہاں نماز ادا کرنی چاہیے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر آپ میری بات مانتے ہیں تو آپ کو اس پتھر کے پیچھے نماز ادا کرنی چاہیے اس طرح پورا قدس آپ کے سامنے ہو جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے یہودیت کو ترجیح دی ہے ، میں اس جگہ نماز ادا کروں گا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی پھر وہ قبلہ کی سمت بڑھ گئے اور انہوں نے نماز ادا کی پھر وہ آئے ۔ انہوں نے اپنی چادر کو پھیلایا اور اپنی چادر میں تنکے وغیرہ رکھنے لگے تو لوگوں نے بھی صفائی کرنا شروع کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان قسملی ہے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔