مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ حُرْمَةِ صَيْدِهَا . باب: یہاں شکار کا حرام ہونا
حدیث نمبر: 5808
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : اصْطَدْتُ طَيْرًا بِالْقُنْبُلَةِ - مَوْضِعٍ بِالْمَدِينَةِ فَلَحِقَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : أَيْ بُنَيِّ مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهُ ؟ قُلْتُ : مِنَ الْقُنْبُلَةِ - مَوْضِعٍ بِالْمَدِينَةِ - ، فَعَرَكَ أُذُنِي ثُمَّ أَخَذَهُ فَأَرْسَلَهُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : قنبلہ ، جو مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے ، میں نے وہاں ایک پرندے کا شکار کیا ، تو میرے والد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور بولے : اے میرے بیٹے تم نے اسے کہاں سے پکڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا قنبلہ سے جو مدینہ منورہ کی ایک جگہ ہے ، تو انہوں نے میرے کان کو پکڑ کر اسے مروڑا اور پھر اسے چھوڑ دیا اور پھر بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کناروں کے درمیان شکار کو حرام قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔