حدیث نمبر: 580
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخُطِّئَ الصَّلَاةَ عَلَى خُطِّئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ أَوْ بِشْرٌ ، فَإِنْ كَانَ بَشِيرًا فَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَإِنْ كَانَ بِشْرًا فَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ قُلْتُ : وَالْأَحَادِيثُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَأْتِي فِي الْأَدْعِيَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جنت کے راستے سے بھٹکا دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن محمد کندی ہے ، یا شاید اس کا نام بشر ہے ، اگر یہ بشیر ہے ، تو پھر عبداللہ بن مبارک ، یحیی بن معین اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اگر یہ بشر ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے چل کر ، دعاؤں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2887»