مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَاهَا . باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتُكْشَفُ قَدَمَاهُ ، وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنْ هَذَا الشَّجَرِ " ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ مِنْهَا مَطْعَمًا وَمَلْبَسًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ : مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ : هَلُمَّ إِلَيْنَا ; فَإِنَّكُمْ بِأَرْضِ حِجَازٍ جَدُوبَةٍ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر ( یعنی میت ) کے پاس موجود تھا لوگ ان کے چہرے پر چادر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کھل جاتے تھے لوگ اس چادر کو کھینچ کر پاؤں پر ڈالتے تھے تو چہرہ ظاہر ہو جاتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چادر ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اس درخت ( کے پتے ) رکھ دو راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کے اصحاب رو رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ خوشحال علاقوں کی طرف نکل جائیں گے اور وہاں کھانا لباس اور سواریاں پائیں گے یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھیں گے کہ ہماری طرف آ جاؤ کیونکہ حجاز کی سرزمین تو قحط سالی والی ہے حالانکہ مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہو گا اگر ان کو علم ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔