مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَاهَا . باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب
وَعَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ مَرَّ بِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأَبِي أَيُّوبَ ، وَهُمَا قَاعِدَانِ عِنْدَ مَسْجِدِ الْجَنَائِزِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الْمَسْجِدِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَنِ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُهُ [ وَهُوَ ] يَزْعُمُ : " أَنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تُفْتَحُ فِيهِ فُتُحَاتُ الْأَرْضِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهَا رِجَالٌ يُصِيبُونَ رَخَاءً وَعَيْشًا وَطَعَامًا ، فَيَمُرُّونَ عَلَى إِخْوَانٍ لَهُمْ حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا فَيَقُولُونَ : مَا يُقِيمُكُمْ فِي لَأْوَاءِ الْعَيْشِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ ؟ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَاهِبٌ وَقَاعِدٌ - حَتَّى قَالَهَا مِرَارًا - وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ ، لَا يَثْبُتُ بِهَا أَحَدٌ فَيَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا حَتَّى يَمُوتَ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام افلح بیان کرتے ہیں : ان کا گزر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا یہ دونوں صاحبان مسجد جنائز میں تشریف فرما تھے ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا آپ کو وہ حدیث یاد ہے ، جو اللہ کے رسول نے اس مسجد میں ہمیں بیان کی تھی جس میں اب اس وقت ہم موجود ہیں تو دوسرے صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ مدینہ منورہ کے بارے میں تھی میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں ان کے لئے زمین کے مختلف حصے فتح کر دیے جائیں گے تو لوگ نکل کر ان علاقوں کی طرف جائیں گے وہ وہاں خوشحالی آرام اور کھانا پینا پائیں گے پھر وہ حج یا عمرے کے لئے جاتے ہوئے اپنے بھائیوں کے پاس سے گزریں گے اور یہ کہیں گے : تم یہ پریشان زندگی اور شدید بھوک میں کیوں ٹھہرے ہوئے ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو کچھ لوگ چلے جائیں گے اور کچھ وہیں رہ جائیں گے یہ بات آپ نے چند مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا ) مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے ، جو شخص یہاں کی تنگی اور شدت پر صبر سے کام لیتے ہوئے یہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو جائے تو قیامت کے دن میں اس کا گواہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کی شفاعت کرنے والا ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔