حدیث نمبر: 5750
وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ : خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ مَضَيْتُ حِينَ لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ ، وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ لَهُ : أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَيْتِ ؟ قَالَ : هَاهُنَا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ صَلَّى ، فَقُلْتُ لَهُ : فَكَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي إِنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمْرًا ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ : كَمْ صَلَّى ؟ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ خَرَجْتُ حَاجًّا ، قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ قَالَ : فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : میں حج کرنے کے لئے نکلا میں بیت اللہ میں داخل ہوا جب میں دو ستونوں کے پاس پہنچا تو میں آگے بڑھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو دیوار کے ساتھ چمٹا لیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے وہ میرے پہلو میں کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے چار رکعت ادا کیں راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نماز ادا کی تھی میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں ہمیشہ اپنے آپ کو اس بات پر ملامت کرتا ہوں کہ میں ایک طویل عرصے تک سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا لیکن میں نے ان سے پھر بھی یہ سوال نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی نماز ادا کی تھی رادی بیان کرتے ہیں : اگلے سال میں حج کرنے کے لئے گیا میں آیا اور اس جگہ پر کھڑا ہوا تو اسی دوران سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے وہ میرے پہلو میں آ کے کھڑے ہو گئے اور وہ مسلسل میرے ساتھ مزاحمت کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھے اس جگہ سے ہٹا دیا اور پھر اس جگہ پر چار رکعت ادا کیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5750
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (204/5)»