حدیث نمبر: 5712
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءُ زَمْزَمَ فِيهِ طَعَامُ [ مِنَ ] الطُّعْمِ ، وَشِفَاءُ السُّقْمِ ، وَشَرُّ مَاءٍ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مَاءٌ بِوَادِي بَرْهُوتَ بَقِيَّةٌ بِحَضَرَمَوْتَ كَرِجْلِ الْجَرَادِ مِنَ الْهَوَامِّ تُصْبِحُ تَتَدَفَّقُ ، وَتُمْسِي لَا بِلَالَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روئے زمین پر موجود سب سے بہتر پانی آب زمزم ہے ، جس میں کھانے کی جگہ کفایت کرنے کی صلاحیت ہے اور بیمار کے لئے شفاء ہے اور روئے زمین پر سب سے برا پانی اس وادی کا پانی ہے ، جس کا نام برہوت ہے ، جو حضرموت میں ہے وہ کیڑوں میں سے ٹڈی کے پاؤں کی طرح کی جگہ ہے صبح کے وقت وہاں پانی ہوتا ہے اور شام کے وقت ذرا سی تری بھی نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5712
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (149 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11167)»