حدیث نمبر: 5613
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مُشْكِلٌ مُسْتَبْعَدٌ ; لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مَنْ قَدِمَ مِنْ ضَعَفَةِ أَهْلِهِ : أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَمْ يَقْدِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى وَحَلَقَ وَذَبَحَ ، فَكَيْفَ يُوَاعِدُهَا ؟ وَهَذَا بَعِيدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ قربانی کے دن صبح کی نماز مکہ میں ادا کریں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں لیکن یہ بات مشکل اور بعید از امکان ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے جن کمزور افراد کو پہلے بھجوا دیا تھا انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ سورج نکلنے تک جمرات کو کنکریاں نہ ماریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمی کر لینے کے بعد سر مونڈوا لینے کے بعد اور قربانی کرنے کے بعد مکہ تشریف لائے تھے تو آپ انہیں یہ کیسے تاکید کر سکتے ہیں ؟ یہ بات بعید از امکان ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5613
درجۂ حدیث محدثین: «رجاله رجال الصحيح» (لیکن متن میں اشکال کی وجہ سے مستبعد ہے۔)
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7000) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (343/23408) اخرجه احمد فى المسند (291/6)»