مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ التَّهْنِئَةِ بِتَمَامِ الْحَجِّ . باب: حج مکمل ہونے کی مبارک باد دینا
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَقَالَ : " أَفْرِخْ رَوْعَكَ يَا عُرْوَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، تَقَدَّمَ فِيمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَاتٍ . ¤ قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ مَا مَعْنَاهُ : أَفْرَخَ رَوْعُكَ : إِذَا ذَهَبَ عَنْكَ الْحُزْنُ . ¤ وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے عروہ ! تم اپنی پریشانی ختم کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اسے ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے ، جو عرفات پہنچنے والے شخص سے متعلق پہلے باب میں گزر چکی ہے ۔
کتاب النہایہ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں : افرخ روعک کا مطلب یہ ہے کہ جب تم سے غم رخصت ہو جائے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداودی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جو حد سے تجاوز کر جائے جبکہ کسی ثقہ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔