حدیث نمبر: 5557
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَوَيْتُ الْجَبَلَيْنِ وَلَقِيتُ شِدَّةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا أَدْرَكَ الْحَجَّ " . ¤ زَادَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْرِخْ رَوْعَكَ ; مَنْ أَدْرَكَ إِفَاضَتَنَا هَذِهِ فَقَدَ أَدْرَكَ الْحَجَّ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . وَقَوْلُهُ : أَفْرِخْ رَوْعَكَ : إِذَا ذَهَبَ عَنْهُ الْحُزْنُ . هَذَا مَعْنَى مَا فِي النِّهَايَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ . وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

معجم کبیر میں امام طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس سے پہلے کہ آپ روانہ ہوتے جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے دونوں پہاڑوں کو لپیٹ دیا اور میں نے شدت کا سامنا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ہماری روانگی کو پا لے اس نے حج کو پا لیا ۔ عبداللہ بن أحمد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی پریشانی ختم کرو جس شخص نے ہماری اس روانگی کو پا لیا اس نے حج کو پا لیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” سنن“ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے اور روایت کے یہ الفاظ ” تم اپنی پریشانی ختم کرو “ اس سے مراد یہ ہے کہ جب غم اس سے چلا جائے یہ وہ مفہوم ہے ، جو النہایہ میں بیان ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزیداؤدی ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جو حد سے تجاوز کرتی ہو جبکہ ثقہ راوی نے اس سے روایت نقل کی ہو اس سے شعبہ اور سفیان نے روایات نقل کی ہیں ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5557
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف