مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَاتٍ . باب: جو شخص ( عرفات میں ) وقوف کو پا لے
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا ، وَهُوَ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ ، فَأَفَاضَ مِنْهَا ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَى جَمْعًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْمَلْتُ نَفْسِي ، وَأَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ; فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا رُجُوعِهِ إِلَى عَرَفَةَ وَمَجِيئِهِ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ جَبَلًا مِنَ الْجِبَالِ وَقَفْتُمْ عَلَيْهِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، حج کے لئے وہ رات کے وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب وہ مزدلفہ میں تھے پھر وہ وہاں سے عرفات چلے گئے پھر وہ واپس آئے تو مزدلفہ آ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اپنے آپ کو مصروف رکھا اپنی سواری کو تھکا دیا کیا میرا حج ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں صبح کی نماز ادا کی اور اس نے ہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم روانہ ہو گئے وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت عرفات میں سے آ چکا ہو ، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنے ذمہ لازم چیز کو ادا کر دیا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” سنن “ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں عرفہ کی طرف واپس جانے اور وہاں سے آنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کی قسم میں نے کوئی بھی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر یہ کہ میں اس پر ٹھہرا جس پر بھی آپ لوگ ٹھہرے تھے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔