مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى وَعَرَفَةَ . باب: منیٰ اور عرفہ کی طرف جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الْحَاجِّ أَنْ يُصَلِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى ثُمَّ يَغْدُوَ فَيُقْبِلُ حَيْثُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ يَرُوحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَيَخْطُبُ النَّاسَ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ثُمَّ يَقِفُ بِعَرَفَةَ فَيَدْفَعُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَيْثُ قَدَّرَ اللَّهُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ ثُمَّ يَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْفَعُ إِذَا أَصْبَحَ فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حاجی کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ ترویہ کے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء اور صبح کی نمازیں منیٰ میں ادا کرے پھر وہ روانہ ہو جائے اور وہاں آئے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے لازم قرار دیا ہے پھر جب سورج ڈھل جائے تو وہ روانہ ہو اور لوگوں کو خطبہ دے پھر وہ پڑاؤ کرے اور دو نمازیں ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کرے پھر وہ عرفہ میں وقوف کرے جب سورج غروب ہو جائے تو وہاں سے روانہ ہو ، پھر وہ مغرب کی نماز وہاں ادا کرے جہاں اللہ نے اس کے نصیب میں لکھا ہو کہ وہ نماز ادا کرے پھر وہ مزدلفہ میں وقوف کرے پھر جب صبح صادق ہو جائے تو وہ صبح کی نماز ادا کرے اور پھر روانہ ہو جائے جب صبح ہو جائے تو جب وہ جمرات کو کنکریاں مار لے گا تو اس کے لئے ہر چیز حلال ہو جائے گی جو اس پر حرام تھی ، البتہ خواتین کا معاملہ اس تک حلال نہیں ہو گا جب تک وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر لیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔