حدیث نمبر: 5502
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، وَهُوَ يَحْدُو عَلَيْهِ خُفَّانِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : مَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَعْجَبُ ; حِدَاؤُكَ حَوْلَ الْبَيْتِ ، أَوْ طَوَافُكَ فِي خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ هَذَا عَلَى عَهْدِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ کی دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز زیادہ حیران کن ہے آپ کا بیت اللہ کے گرد حدی پڑھنا یا آپ کا موزے پہن کر طواف کرنا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ کام اس ہستی کے سامنے کیا تھا جو آپ سے بہتر تھے اور وہ اللہ کے رسول ہیں تو انہوں نے تو مجھ پر اعتراض نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5502
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (842 ، 843)»