حدیث نمبر: 5501
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ آخِذٌ بِخِطَامِهَا يَرْتَجِزُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ; خَلَا ذِكْرِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَرَجَزِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف اپنی جدعاء اونٹنی پر کر رہے تھے عبداللہ بن ام مکتوم نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور وہ رجز پڑھ رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے البتہ ان میں عبداللہ بن ام مکتوم اور ان کے رجز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے البتہ ان میں عبداللہ بن ام مکتوم اور ان کے رجز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5502
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، وَهُوَ يَحْدُو عَلَيْهِ خُفَّانِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : مَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَعْجَبُ ; حِدَاؤُكَ حَوْلَ الْبَيْتِ ، أَوْ طَوَافُكَ فِي خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ هَذَا عَلَى عَهْدِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ کی دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز زیادہ حیران کن ہے آپ کا بیت اللہ کے گرد حدی پڑھنا یا آپ کا موزے پہن کر طواف کرنا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ کام اس ہستی کے سامنے کیا تھا جو آپ سے بہتر تھے اور وہ اللہ کے رسول ہیں تو انہوں نے تو مجھ پر اعتراض نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔