حدیث نمبر: 5475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ : مَا لِي لَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ : الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اسْتِلَامَهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا " . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنْ طَافَ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ " . ¤ قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا رَفَعَ رَجُلٌ قَدَمًا وَلَا وَضَعَهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہتے ہوئے سنا : کیا وجہ ہے ؟ کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صرف ان دو ارکان یعنی حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام کرتے ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں ایسا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان دونوں کا استلام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے “ ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص گنتی کر کے سات چکر لگاتا ہے اور پھر دو رکعت ادا کرتا ہے ، تو یہ اس کے لئے غلام آزاد کرنے کی مانند ہے “ ۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، جو شخص ایک قدم اٹھاتا ہے اور ایک قدم رکھتا ہے ، تو اس کے عوض میں اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کے دس گناہ ختم ہوتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند ہوتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5688 ، 5689)، اخرجه احمد فى المسند (4462)»