حدیث نمبر: 5465
عَنْ نَافِعٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنِ التَّلْبِيَةِ ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى ذِي طُوًى بَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، ثُمَّ يُصَلِّي الْغَدَاةَ وَيَغْتَسِلُ ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ . ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ضُحًى فَيَأْتِي الْبَيْتَ فَيَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . ثُمَّ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ يَمْشِي مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ فَإِذَا أَتَى عَلَى الْحَجَرِ اسْتَلَمَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ مَشْيًا ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَقَامَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَسْتَلِمُهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّفَا مِنَ الْبَابِ الْأَعْظَمِ ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ فَيُكَبِّرُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثَلَاثًا يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریب پہنچ جاتے تھے تو تلبیہ پڑھنے سے رک جاتے تھے پھر جب وہ ذی طوئی کے مقام پر پہنچ جاتے تھے تو وہاں رات بسر کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی تھی تو وہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد غسل کرتے تھے اور یہ بات بیان کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے پھر وہ چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہو کے بیت اللہ آتے تھے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اور یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ کے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالی سب سے بڑا ہے پھر وہ طواف کے تین چکروں میں رمل کرتے تھے وہ دونوں رکنوں کے درمیان عام رفتار سے پیدل چلتے تھے جب وہ حجر اسود کے پاس آتے تھے تو استلام کرتے تھے اور تکبیر کہتے تھے اور طواف کے چار چکر وہ عام رفتار سے چل کر پورے کرتے تھے پھر وہ مقام ابراہیم کے پاس آ کر دو رکعت ادا کرتے تھے پھر واپس حجر اسود کے پاس جا کر اس کا استلام کرتے تھے پھر بڑے دروازے کی طرف سے صفا کی طرف چلے جاتے تھے وہ اس پر کھڑے ہو کر سات مرتبہ تکبیر کہتے تھے پھر یہ پڑھتے تھے : ” اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اس کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سے زیادہ اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4628)»