مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ . باب: برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ : " لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ فَأَجَلُهُ إِلَى مُدَّتِهِ ، وَاللَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : فَسَارَ بِهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ : " الْحَقْهُ فَرُدَّ عَلَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَبَلِّغْهَا " ( أَنْتَ ) . قَالَ : فَفَعَلَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ بَكَى . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " مَا حَدَثَ فِيكَ إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ أُمِرْتُ أَلَّا يُبَلِّغَهُ إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنِّي " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لا تعلقی کے اعلان کے ہمراہ اہل مکہ کی طرف بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور جس شخص کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مخصوص مدت کا کوئی معاہدہ کیا ہوا تھا تو اس کا آخری وقت وہ مخصوص مدت ہو گی اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے لاتعلق ہیں راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان احکامات کو لے کر روانہ ہوئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جا کر اس سے ملو اور ابوبکر کو میرے پاس واپس لاؤ اور یہ اعلان تم کرو راوی کہتے ہیں : انہوں نے ایسا ہی کیا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ رونے لگے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی نئی چیز سامنے آئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بارے میں صرف بھلائی سامنے آئی ہے لیکن مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ یہ پیغام یا تو میں خود دے سکتا ہوں یا میرے خاندان کا کوئی فرد دے سکتا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ (
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔