مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّخُولِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ وَالْخُرُوجِ مِنْ غَيْرِهِ . باب: مسجد حرام میں باب بنو شیبہ کی طرف سے داخل ہونا اور کسی اور طرف سے نکلنا
حدیث نمبر: 5463
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْنَا مَعَهُ مِنْ دَارِ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمِّيهِ النَّاسُ بَابَ بَنِي شَيْبَةَ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ بَابِ الْحَرُورَةِ ، وَهُوَ بَابُ الْحَنَّاطِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ أَبِي مَرْوَانَ قَالَ السُّلَيْمَانِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دار بنو عبد مناف کی طرف سے ( مسجد حرام میں ) داخل ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی داخل ہوئے تھے یہ وہ دروازہ ہے ، جسے لوگ باب بنوشیبہ کہتے ہیں اور جب ہم آپ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف جانے کے لئے نکلے تھے تو باب حرورہ کی طرف سے نکلے تھے جو باب حناطین ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن ابومروان ہے سلیمانی کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔