مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَدَبِ الْعَالِمِ . باب: عالم (یعنی تعلیم دینے والے ) کے آداب
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَا ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَزَجَرُوهُ ، فَقَالُوا : مَهْ مَهْ ، فَقَالَ : " ادْنُهْ " ، فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا ، فَقَالَ : " أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَتَحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ " . قَالَ : " أَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ " . قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ " . قَالَ : فَلَمْ يَكُنْ بَعْدَ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں ! لوگ اُس کی طرف متوجہ ہوئے اور اُنہوں نے اُسے ڈانٹا اور بولے : رک جاؤ رک جاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب آ جاؤ ! وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس ( زنا کرنے کو ) اپنی ماں کے لئے پسند کرو گے ؟ ( یعنی کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہاری ماں یہ کام کرے ؟ یا اسے اس کی اجازت دیدی جائے ) اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ( یعنی میں یہ پسند نہیں ) کروں گا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی بیٹی کے لئے پسند کرو گے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی بہن کے لئے پسند کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرو گے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی خالہ کے لئے پسند کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اُس پر رکھا اور دعاء کی : اے اللہ ! اس کے گناہ کی مغفرت کر دے ! اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد ، وہ نوجوان کسی چیز کی طرف التفات نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔