حدیث نمبر: 5363
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ يُلَبِّي أَهْلُ الشِّرْكِ : ¤ لَبَّيْـكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ ¤ تَمْلِـكُهُ وَمَـا مَلَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِيمَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مشرکین کا تلبیہ یہ تھا : ” اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، البتہ اس شریک کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا تو مالک ہو ، اور جس چیز کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا جو ( غلام اور کنیزیں ) تمہاری ملکیت ہیں ، جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے کیا وہ اس میں شراکت دار ہیں کہ تم ( اور تمہارے زیر ملکیت ) اس ( مال کی ملکیت ) میں برابر ہوں ، کیا تم ان کے بارے میں اسی طرح خوف رکھتے ہو جس طرح تم اپنے بارے میں خوف رکھتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف